بھٹکل:۱۶/ستمبر (ایس او نیوز) اترکنڑا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تڑی پار ہوئے مرڈیشور کے شری رام سینا لیڈر جینت نائک کو دھارواڈ ہائی کورٹ کی طرف سے تین ہفتوں تک امتناعی حکم ملنے کے بعدمرڈیشور پہنچنے کے بعد جینت نائک نے آج پریس کانفرنس کے ذریعے دعویٰ کیا کہ وہ ایک عوامی نمائندے ہیں وہ اور ان کی بیوی گرام پنچایت کے ممبران ہیں ، پچھلے دس پندرہ سالوں سے رشوت خوری کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں سازش کے ذریعے تڑی پار کیا گیا۔۔
جمعہ کی شام منکولی کے ہندو ہال میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے جینت نائک نے کہاکہ محکمہ پولس نے سیاسی دباؤ کی وجہ سے میرے خلاف راؤڈی شیٹر کا کیس درج کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ میں نے کوئی قتل نہیں کیا ہے، نہ ہی کسی عصمت دری کا ملزم ہوں ، اس کے باوجود میرے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے مجھے تڑی پار کیا گیا ہے، اس کے پیچھے کون ہیں مجھے اچھی طرح معلوم ہے، ان کاسامنا کرنے کے لئے میں تیار ہوں، 13نومبر کو مرڈیشورمیں وراٹ ہندو سماویش ہونے والا ہے، قومی لیڈران پروگرام میں شرکت کریں گے ، شری رام سینا کی طرف سے تیاریاں جاری رہنے کی بات کہی۔
رام سینا کے قانونی صلاح کار سریش نائک نے بات کرتے ہوئے کہاکہ مرڈیشورمیں ہندو ردر بھومی (شمشان )کے لئے منظور ہوئی زمین پر دوسرے قابض ہیں، جینت نائک ہندؤوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں کوئی تنازعہ کھڑانہیں کیا ہے۔ طاقت کے زور سے اورجھوٹے مقدمات داخل کرکے شری رام سینا کی طاقت کو کمزور کرنا ممکن نہیں ہے۔ جینت نائک کے تڑی پارکا معاملہ ریاست بھر میں چل رہاہے، شری رام سینا ان کی حمایت میں ہمیشہ کے لئے کھڑی ہے۔شری رام سینا بھٹکل کے صدر بابوموگیر ، پرشانت منکی وغیرہ موجود تھے